twitter.com/rasin_baloch

Archive for the ‘General and Rebloged’ Category

Status

شاعری

یہ وہ بدبخت قوم ہے جس کی شاعری کا آغاز فلسفے سے ہوا تھا اور اب شاعری مایوسی، ناکام عاشق کے نوحے اور واہ واہ کی داد کے سوا کچھ بھی نہیں 

Advertisements
Status

ہمارے ہر فن مولا صحافی

‏ہمارے جرنلسٹ کمال قابلیت کے حامل ہیں ‏وہ صحافت کے ساتھ ساتھ 

‏سیاستدان قانون دان سائنسدان اور بہت سے دان بن کے اس قوم کو گمراہ کرتے ہیں

بنیادی حقوق سے آگہی کی ایک کوشش

قدیم ریاستوں میں شہری کے کوئی حقوق نہیں ہوا کرتے تھے۔

اگر کوئی رحمدل بادشاہ ہوتا تو وہ رعایا کے خوش بختی تصور کی جاتی تھی وگرنہ رعایا پر ہر حال میں واجب ہوتا کے وہ بادشاہ سلامت کی فرمانبرداری کرے بصورت دیگر نافرمان کے سر قلم کر دیئے جاتے۔

رفتہ رفتہ حالات بدلنے لگے یورپ اور برطانیہ میں کئی عوامی تحریکیں چلی اور جدید ریاست کا تصور متعارف ہونے لگا جہاں ریاست پر عوام کی چند اہم اور بنیادی زمہ داریاں (جن کو حرف عام میں بنیادی حقوق کہا جاتا ہے) عائد ہوتی گئیں ریاست کا اہم مقصد عوام کی فلاح بن گیا

تقریباً ہر ریاست کے آئین میں ایک حصہ بنیادی حقوق کا بھی درج ہوتا ہے جہاں ریاست اپنی حکومت کو پابند کرتی ہے کہ وہ تمام وسائل کو بروئے کار لا کر عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے

آئین پاکستان میں بھی بنیادی حقوق شامل ہیں ہماری عوام کا ایک بڑا حصہ اپنے بنیادی حقوق سے ناواقف ہے اس پیچ یعنی http://www.m.facebook.com/ouryouthsthoughts میں آئین پاکستان میں درج ہمارے بنیادی حقوق آگہی کا ایک سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

امید ہے آپ سب حضرات تعاون کرتے ہوئے ہماری بنیادی حقوق سے آگہی سے متعلق پوسٹس share کرتے رہے گئے۔ ہماری اس پیج میں موجود ججز صاحبان اور وکلاء ہماری اصلاح کرتے ہیں گے.

محمد عامر کو ویزہ ملنے کے کتنے امکانات ہیں

محمد عامر قومی ٹیم کے 16 رکنی اسکوڈ کا حصہ تو بن گیا مگر ایک روکاوٹ اور بھی ہے کہ نیوزیلینڈ کا ویزہ ملتا ہے کہ نہیں کیونکہ نیوزی لینڈ کے امیگریشن ایکٹ 2009 کے سیکشن 15 اور 16 کے تحت کچھ افراد نیوزی لینڈ کا ویزہ لینے کے اہل نہیں ہوتے ہیں سزا یافتہ شخص بھی ایسے ہی افراد میں شامل ہیں۔

قانون پتھر کی لکیر نہیں ہوتے قانون ہمیشہ لچکدار ہوتے ہیں جہاں حالات کے مطابق فیصلے کئے جاتے ہیں 

نیوزی لینڈ کا قانون بھی اس حوالے سے کچھ حد تک لچکدار ہے اسی قانون کا سیکشن 17 سزا یافتہ اور دیگر افراد کو جن کو سیکشن 15 اور 16 کے تحت ویزہ سے نااہل قرار گیا ہے کو رعایت دیتا ہے

ایسے افراد رعایت کی درخواست کر سکتے ہیں جن کو تمام عمر میں کل ملا کے 5 سال یا اس سے زیادہ کے قید کی سزا نہ ملی ہو دوسری صورت میں پچھلے 10 سال میں اسے 12 ماہ یا اس سے زیادہ کی قید کی سزا نہیں ہوئی ہو 

عامر کو ایک سال کی سزا ہوئی تھی وہ رعایت کا مستحق تو ہے مگر رعایت کا اختیار پورا کا پورا discretionary powes ہے جو امیگریشن حکام کے اپنی مرضی پر منحصر ہے 

میرے اندازے کے مطابق محمد عامر کو ویزہ ملنے کے 70 فیصد امکانات ہیں۔

چاہت اور محبت

ہمارے ہاں محبت کی تعریف غلط ہوتی رہی ہمارے ڈراموں ، فلموں اور افسانوں میں چاہت کو محبت کا نام دے کر پیش کیا جاتا رہا ہم چاہت کو ہی محبت سمجھ بیٹھے اور ہمارے ہاں سے محبت ختم ہوتی گئی

محبت کوئی فزکس ،کیمسٹری ،بائیلوجی ، میتھ یا فلاسفی  نہیں جس کو سمجھنا مشکل ہو محبت قانون ہے اصول ہے جو بظاہر خسارے کا سودا معلوم ہوتا ہے لیکن اصل میں زندگی کو پر سکون گزارنے کا واحد کلیہ ہے۔

سادہ سے لفظوں میں کہہ جائے تو محبت کرنے والے کو اپنے محبوب کی بہتری اور بھلائی کے علاوہ کسی چیز کی فکر نہیں ہوتی جب تک محبت کرنے والے میں رب کا اپنے بندوں سے محبت، رسول کا اپنی امت سے محبت، ماں کا اپنی اولاد سے محبت، اور باپ کا اپنے بچوں سے محبت کاعکس نہ ہو وہ محبت نہیں بلکہ چاہت ہے

محبت میں کبھی نفع اور نقصان کا خوف نہیں ہوتا کیونکہ محبت میں نقصان ہوتا ہی نہیں بس فکر ہوتی ہے وہ بھی اپنی نہیں محبوب کی بھلائی اور بہتری کی فکر محبت کرنے والے کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا محبوب زندگی کو سمجھے ہر بھلائی کی طرف قدم بڑائے ہر برائی سے بچے اپنے آپ کو سمجھے

بقول علامہ اقبال کے

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

تو میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

جب کے دوسری طرف چاہت کرنے والے کو نفع اور نقصان کا ڈر ہمیشہ رہتا ہے کیونکہ چاہت میں سوائے نقصان کے کچھ بھی نہیں ہوتا انسانی فطرت ہے وہ اپنی چاہت کو پا کر بھی پچھتاوے کا شکار رہتا ہے اور کھو کر بھی۔

بقول کسی شاعر کے

تو میری چاہت کو اپنا بنا لینا مگر سن لے

جو میرا ہو نہیں پایا وہ تیرا ہو نہیںں سکتا

محبت امر ہوتی ہے چاہت محدود اور وقتی، محبت تکمیل کے بعد منزل بہ منزل ترقی پاتی ہے، چاہت پوری ہونے پہ ختم ہوتی جاتی ہے اور پوری نہ ہونے پر بدل جاتی ہے

آؤ محبت سیکھیں آؤ محبت بانٹیں آؤ چاہت کے بجائے محبت کریں اور اس معاشرے کو بچائیں جو اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے

مجھے انصاف کون دے گا……؟

صبح سے موسم بہت غصے میں تها  فروری سے ایسی امید ہرگز نہ تهی کبھی سرد ہوا اکیلی تو کبھی دھول کے ساتھ کمرہ عدالت کے باہر ٹھہر کر اپنے کیس بلائے جانے کا انتطار کرنےکی اجازت نہیں دے رہی تهی سو اسی میں عافیت جانی کہ کمرہ عدالت کے اندر بیٹھ کر کچھ سیکھا بهی جا اور موسم کی ستمطریفی سے بھی بچا جائے

ہمارے ہاں فیملی عدالتوں میں تقریبا تمام مقدمات ایک ہی جیسے ہوتے ہیں بیوی اپنے شوہر سے طلاق کے ساتھ خرچہ مانگ رہی ہوتی ہے یا پهر شوہر حق زوجیت کے ساتھ بچوں کی کسٹیڈی مانگ رہا ہوتا ہے. عدالت کے اندر داخل ہوتے ہی میری نظر کٹہرے میں کھڑے ایک نوجوان پر پڑی جو اپنے ڈیڑھ  سالہ بچے کو اٹھائے ہوئے تها اور دوسری جانب عورت ٹھہری تهی جو بظاہر لڑکے سے عمر میں دو تین سال بڑی دیکھائی دے رہی تهی مقدمہ کراس کیس لگ رہا تها جہاں عورت کے خلا اور خرچہ کے دعوی کے جواب میں نوجوان نے بچے کی  کسٹیڈی مانگی تهی کارروائی یہ تهی کہ مدعی یعنی اس نوجوان کے بیان کے بعد اس کا مخالفت وکیل جرح کر رہا تها (عدالت میں دیئے گئے بیان پر مخالفت وکیل کے سوال و جواب کو جرح کہتے ہیں) اس تمام کارووائی میں غیرمعمولی بات یہ تهی کہ جرح کے دوران جو تقریبا ایک گھنٹہ چلتا رہا بچہ کبھی بهاگ کر کٹہرے میں کھڑے باپ کو لپٹ جاتا تو کبھی دوسرے کٹہرے میں ٹھہری ماں کی جانب دوڑتا بچے کی اس بےچینی کے پیچھے پیغام کو عدالت میں موجود تمام افراد سمجھ رہے تهے سوائے ان کے جن کےلۓ یہ پیغام تها جو اپنی خواہشات اور انا میں معصوم بچے کی اس صدا کو نظرانداز کر رہے تهے “امی ابو آپ دونوں میں سے عدالت کسی نہ کسی کو انصاف دے دے گی مگر میرے بنیادی حقوق جو غضب ہو رہے ہیں مجھے جو پیار ملنا تها مجھے جو محبت ملنی تها مجھے جو تربیت ملنی تهی میں اس سے آپ دونوں کی انا اور مقدمہ بازی کی وجہ سے محروم ہوں اس کا ذمےدار کون ہے میں کس عدالت میں جاوں  مجھے “انصاف کون دے گا؟

احساس ذمےداری کا بحران

دہشتگردوں نے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے

بجلی کےبحران نے ملکی معیشت کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے…

مہنگائی نے عوام کا جینا دوبهر کر دیا ہے

غربت اور بےروزگاری نے خودکشی کرنے پر مجبور کردیا ہے اور ہاں تعلیمی نظام کا تو ستیا ہی ناس ہے.

ان مسائل کا رونا ہم سب ہر روز روتے ہیں  حکمرانوں اور دیگر صاحب اختیار لوگوں کو کوستے اور اپنا کلیجا  ٹھنڈا کر کے تسلی کر لیتے ہیں کہ ہم نے اپنے حصے کا کام  “یعنی رونا دھونا اور تنقید  ” کر لیا.

ہمارے حصے کا کام یعنی ” تنقید”

آسان ترین کاموں میں سے ایک ہے جو صرف دنیا کی اعظیم ترین قومیں ہی انجام دے سکتیں ہیں.

ہم صرف ذمہ داری سونپنا جانتے ہیں لینا نہیں جانتے

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ریاست اور حکومت وقت پہ لازم  ہے کے وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے اور ضروریات زندگی مہیا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے مگر عام عوام پر چند ہی صحیح مگر بنیادی اور اہم ذمہ داریان عائد ہوتی ہیں.

ہر شہری کی ذمےداری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے آپ کو شعور و آگہی سے آراستہ کر بلکہ اپنے اردگرد افراد کی تربیت و تعلیم میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ ایک ایسا باشعور معاشرے کا قیام ممکن ہو جو اپنے فیصلے خود کر سکے اور ہر غیرجمہوری اقدام و بیرونی مداخلت کی راہ میں روکاوٹ بن جائے.

کیا یہ عام عوام پہ فرض نہیں کہ وہ بجلی و گیس کی چوری سے اجتناب کرے اور اسراف و فضول خرچی سے بچتے ہوئے ملک کی معدنیات کا استمعال کفایت شعاری سے کرے.

کوئی بھی ملک کی خدمت کرنا نہیں چاہتا سرکاری ملازم ہیں پر ملازمت نہیں کرتے بیروزگار نوجوان آرام دہ مگر اعلی مراعات والی سرکاری نوکری کے چکر میں ڈگریاں لینے کی دوڑ میں لگے ہیں کوئی پڑھا لکھا تاجر، پڑھا لکھا کسان،  پڑھا لکھا کاریگر بننے کو یا پھر سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کچھ کر دیکھانے کو تیار نہیں.

عام عوام تبدیلی کی منتظر ہے مگر تبدیل ہونا نہیں چاہتی جب عام عوام اپنی ذمےداریاں کا احساس کرتے ہوئے تبدیلی کا آغاز کر لیتی ہے تو تھوڑے سے وقت میں پائیدار انقلاب آ ہی جاتا ہے

Tag Cloud