twitter.com/rasin_baloch

قدیم ریاستوں میں شہری کے کوئی حقوق نہیں ہوا کرتے تھے۔

اگر کوئی رحمدل بادشاہ ہوتا تو وہ رعایا کے خوش بختی تصور کی جاتی تھی وگرنہ رعایا پر ہر حال میں واجب ہوتا کے وہ بادشاہ سلامت کی فرمانبرداری کرے بصورت دیگر نافرمان کے سر قلم کر دیئے جاتے۔

رفتہ رفتہ حالات بدلنے لگے یورپ اور برطانیہ میں کئی عوامی تحریکیں چلی اور جدید ریاست کا تصور متعارف ہونے لگا جہاں ریاست پر عوام کی چند اہم اور بنیادی زمہ داریاں (جن کو حرف عام میں بنیادی حقوق کہا جاتا ہے) عائد ہوتی گئیں ریاست کا اہم مقصد عوام کی فلاح بن گیا

تقریباً ہر ریاست کے آئین میں ایک حصہ بنیادی حقوق کا بھی درج ہوتا ہے جہاں ریاست اپنی حکومت کو پابند کرتی ہے کہ وہ تمام وسائل کو بروئے کار لا کر عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے

آئین پاکستان میں بھی بنیادی حقوق شامل ہیں ہماری عوام کا ایک بڑا حصہ اپنے بنیادی حقوق سے ناواقف ہے اس پیچ یعنی http://www.m.facebook.com/ouryouthsthoughts میں آئین پاکستان میں درج ہمارے بنیادی حقوق آگہی کا ایک سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

امید ہے آپ سب حضرات تعاون کرتے ہوئے ہماری بنیادی حقوق سے آگہی سے متعلق پوسٹس share کرتے رہے گئے۔ ہماری اس پیج میں موجود ججز صاحبان اور وکلاء ہماری اصلاح کرتے ہیں گے.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Tag Cloud

%d bloggers like this: