twitter.com/rasin_baloch

Legal profession is all about research and with the advancement of technology and internet legal research also become digitize. Thanks to the efforts of the team http://www.eastlaw.pk as it lunched new law site which is more advanced and handy for legal fraternity. Plus the newly lunched website is giving users free trial for satisfaction before subscription.Hurry up and visit http://www.eastlaw.pk and make your account and enjoy online legal research but wait wait before going to the http://www.eastlaw.pk here are some some features of which will help you to understand to use.

1. Free trial.

The http://www.eastlaw.pk is giving you almost 2 weeks of free trial to satisfy yourself before using its paid service.

2 Search options.

The http://www.eastlaw.pk has unique research section the user has three different options to search. First is “All Words” you can find any citation just by writing any word or topic and the serach engain of the the http://www.eastlaw.pk will find for you all judgements containing the word you have entered. Secondly you can reseaech any case law by entering exact phrase you want to search and the thirdly you can search by putting two different phrase just adding “and” between two phrase.

3.Search by citation.

The http://www.eastlaw.pk has huge collection of cititaions from popular journals sach as PLD, SCMR CLC, MLD, CLD, CLR, Comp.Co, Con.C, ELTrib, IHC, KRL, LHC, NLR, PCRLJ, PHC, PLJ, PSC, PSC CIV, PSC CRi, PTCL, PTF, SC AJK, SCInd, SCP, SECP (B.O), SECP (O), SHC, Sindh Revenue Board Decisions, TAX, YLR.

4. Search by court or party name.

If you do not know axect citation number just select the court and party name and the http://www.eastlaw.pk will serach for you.

5. Hyperlinked citations.

The http://www.eastlaw.pk made legal research more easy in every citation you can find relied upon and referred judgement and you can easly go to refered judgment just clincking on Hyperlinked.

6. My Documents and search history.

You can save your citations and documnets, can make notes and also can download documents even you can see your serach history.

7. Finding legistaltions.

On the http://www.eastlaw.pk you can find not only Acts but you can find rules and regulations, ordinance ammendments and bills of National and provinional assemblies.

8. Departments.

In the department section of the http://www.eastlaw.pk user can abtain notifications, circuler and order of most of the department which is again a great features for legal reaearch.

9. lastest judgments

leatsed decisioms of High courts and Sumpre court are also available.10. E-news and Dictionary with Legal Maxims.Hope it will be helpful in your legal profession.www.eastlaw.pk register yourself free and get 2 weaks free trial.

Note; if you face any problem while singing up you must contact the the representatives of http://www.eastlaw.pk

ہمارے رہنماؤں کے ہاں تبدیلی صرف ان کا اقتدار میں آنے کا نام ہے اصول، نظریہ، جمہوری حکمت عملی تو صرف و صرف تھیوریٹکل باتیں ہیں جن کا استمال سادہ لوح عوام کو بہلانے کےلئے ہوتا ہے ۔

اقتدار کے ہوس میں الیکٹ ایبل لوٹوں کی فوج بنانا کوئی سیاسی معجزہ نہیں بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں بلکہ الیکٹ ایبل لوٹے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہی چاہیے آمریت ہو یا جمہوریت یہ ہی الیکٹ ایبل لوٹے کسی نہ کسی روپ میں ایوانوں میں ضرور ملیں گے۔

حکومت کسی فرد کی نہیں ہوتی بلکہ عوام کی ہوتی ہے اور جب طاقت کاسرچشمہ عوام فر بجائے الیکٹ ایبل لوٹے ہوں تو وہاں بڑے سے بڑا رہنماء بھی الیکٹ ایبل لوٹے کے ہاتھوں یرغمال ہوتا ہے۔

یہ وہ بدبخت قوم ہے جس کی شاعری کا آغاز فلسفے سے ہوا تھا اور اب شاعری مایوسی، ناکام عاشق کے نوحے اور واہ واہ کی داد کے سوا کچھ بھی نہیں 

‏ہمارے جرنلسٹ کمال قابلیت کے حامل ہیں ‏وہ صحافت کے ساتھ ساتھ 

‏سیاستدان قانون دان سائنسدان اور بہت سے دان بن کے اس قوم کو گمراہ کرتے ہیں

قدیم ریاستوں میں شہری کے کوئی حقوق نہیں ہوا کرتے تھے۔

اگر کوئی رحمدل بادشاہ ہوتا تو وہ رعایا کے خوش بختی تصور کی جاتی تھی وگرنہ رعایا پر ہر حال میں واجب ہوتا کے وہ بادشاہ سلامت کی فرمانبرداری کرے بصورت دیگر نافرمان کے سر قلم کر دیئے جاتے۔

رفتہ رفتہ حالات بدلنے لگے یورپ اور برطانیہ میں کئی عوامی تحریکیں چلی اور جدید ریاست کا تصور متعارف ہونے لگا جہاں ریاست پر عوام کی چند اہم اور بنیادی زمہ داریاں (جن کو حرف عام میں بنیادی حقوق کہا جاتا ہے) عائد ہوتی گئیں ریاست کا اہم مقصد عوام کی فلاح بن گیا

تقریباً ہر ریاست کے آئین میں ایک حصہ بنیادی حقوق کا بھی درج ہوتا ہے جہاں ریاست اپنی حکومت کو پابند کرتی ہے کہ وہ تمام وسائل کو بروئے کار لا کر عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے

آئین پاکستان میں بھی بنیادی حقوق شامل ہیں ہماری عوام کا ایک بڑا حصہ اپنے بنیادی حقوق سے ناواقف ہے اس پیچ یعنی http://www.m.facebook.com/ouryouthsthoughts میں آئین پاکستان میں درج ہمارے بنیادی حقوق آگہی کا ایک سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

امید ہے آپ سب حضرات تعاون کرتے ہوئے ہماری بنیادی حقوق سے آگہی سے متعلق پوسٹس share کرتے رہے گئے۔ ہماری اس پیج میں موجود ججز صاحبان اور وکلاء ہماری اصلاح کرتے ہیں گے.

محمد عامر قومی ٹیم کے 16 رکنی اسکوڈ کا حصہ تو بن گیا مگر ایک روکاوٹ اور بھی ہے کہ نیوزیلینڈ کا ویزہ ملتا ہے کہ نہیں کیونکہ نیوزی لینڈ کے امیگریشن ایکٹ 2009 کے سیکشن 15 اور 16 کے تحت کچھ افراد نیوزی لینڈ کا ویزہ لینے کے اہل نہیں ہوتے ہیں سزا یافتہ شخص بھی ایسے ہی افراد میں شامل ہیں۔

قانون پتھر کی لکیر نہیں ہوتے قانون ہمیشہ لچکدار ہوتے ہیں جہاں حالات کے مطابق فیصلے کئے جاتے ہیں 

نیوزی لینڈ کا قانون بھی اس حوالے سے کچھ حد تک لچکدار ہے اسی قانون کا سیکشن 17 سزا یافتہ اور دیگر افراد کو جن کو سیکشن 15 اور 16 کے تحت ویزہ سے نااہل قرار گیا ہے کو رعایت دیتا ہے

ایسے افراد رعایت کی درخواست کر سکتے ہیں جن کو تمام عمر میں کل ملا کے 5 سال یا اس سے زیادہ کے قید کی سزا نہ ملی ہو دوسری صورت میں پچھلے 10 سال میں اسے 12 ماہ یا اس سے زیادہ کی قید کی سزا نہیں ہوئی ہو 

عامر کو ایک سال کی سزا ہوئی تھی وہ رعایت کا مستحق تو ہے مگر رعایت کا اختیار پورا کا پورا discretionary powes ہے جو امیگریشن حکام کے اپنی مرضی پر منحصر ہے 

میرے اندازے کے مطابق محمد عامر کو ویزہ ملنے کے 70 فیصد امکانات ہیں۔

چاہت اور محبت

ہمارے ہاں محبت کی تعریف غلط ہوتی رہی ہمارے ڈراموں ، فلموں اور افسانوں میں چاہت کو محبت کا نام دے کر پیش کیا جاتا رہا ہم چاہت کو ہی محبت سمجھ بیٹھے اور ہمارے ہاں سے محبت ختم ہوتی گئی

محبت کوئی فزکس ،کیمسٹری ،بائیلوجی ، میتھ یا فلاسفی  نہیں جس کو سمجھنا مشکل ہو محبت قانون ہے اصول ہے جو بظاہر خسارے کا سودا معلوم ہوتا ہے لیکن اصل میں زندگی کو پر سکون گزارنے کا واحد کلیہ ہے۔

سادہ سے لفظوں میں کہہ جائے تو محبت کرنے والے کو اپنے محبوب کی بہتری اور بھلائی کے علاوہ کسی چیز کی فکر نہیں ہوتی جب تک محبت کرنے والے میں رب کا اپنے بندوں سے محبت، رسول کا اپنی امت سے محبت، ماں کا اپنی اولاد سے محبت، اور باپ کا اپنے بچوں سے محبت کاعکس نہ ہو وہ محبت نہیں بلکہ چاہت ہے

محبت میں کبھی نفع اور نقصان کا خوف نہیں ہوتا کیونکہ محبت میں نقصان ہوتا ہی نہیں بس فکر ہوتی ہے وہ بھی اپنی نہیں محبوب کی بھلائی اور بہتری کی فکر محبت کرنے والے کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا محبوب زندگی کو سمجھے ہر بھلائی کی طرف قدم بڑائے ہر برائی سے بچے اپنے آپ کو سمجھے

بقول علامہ اقبال کے

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

تو میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

جب کے دوسری طرف چاہت کرنے والے کو نفع اور نقصان کا ڈر ہمیشہ رہتا ہے کیونکہ چاہت میں سوائے نقصان کے کچھ بھی نہیں ہوتا انسانی فطرت ہے وہ اپنی چاہت کو پا کر بھی پچھتاوے کا شکار رہتا ہے اور کھو کر بھی۔

بقول کسی شاعر کے

تو میری چاہت کو اپنا بنا لینا مگر سن لے

جو میرا ہو نہیں پایا وہ تیرا ہو نہیںں سکتا

محبت امر ہوتی ہے چاہت محدود اور وقتی، محبت تکمیل کے بعد منزل بہ منزل ترقی پاتی ہے، چاہت پوری ہونے پہ ختم ہوتی جاتی ہے اور پوری نہ ہونے پر بدل جاتی ہے

آؤ محبت سیکھیں آؤ محبت بانٹیں آؤ چاہت کے بجائے محبت کریں اور اس معاشرے کو بچائیں جو اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے

Tag Cloud